زینب ہم بلکل شرمندہ نہیں ہیں …

زینب بیٹا! ہم بلکل شرمندہ نہیں، ہم ایک ڈرامے باز قوم ہیں، ہم دو چار دن ڈرامے بازی کریں گے اور بس الله الله خیر صلہ، پیاری بیٹی یہ کچھ دن کی تکلیف کے لیے ہم آپ سے معذرت خواہ ہیں، تجھے انصاف دلانے کے لئے JIT بن چکی، اسپیشل ٹیمں تشکیل دی جا چکی ہیں، وزیر اعلی، چیف جسٹس اف پاکستان، آرمی چیف از خود نوٹس لے چکے ہیں. پوری قوم تیرے لئے صدمے میں ہے، بیٹا تجھے خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے اور آپ سے اظہار افسوس کرنے کے لئے ہم نے خوب آگ لگائی ہے، املاک کو نقصان پہنچایا ہے اور ایندہ بھی پہنچایہں گے، بیٹا کلّ تیری زینت پے دو اور لوگوں نے قربانی دی ہے، اور مجھے یقین ہے وہ بھی شہادت کے اعلی مرتبے پر فائز ہو چکے ہیں، ہاں بیٹا آپ کو بتاتا چلوں آپ کے سیاستدان انکل بھی کلّ سے تیرے ساتھ ہونے والی درندگی پی خوب سیاست اور پواینٹ سکورنگ کر رہے ہیں، بیٹا حد تو یہ ہے کہ کلّ میں نے تیرے ابو جان کو بھی دیکھا، جن سے تو بھوت پیار کرتی تھی، جن کی تو لاج دلاری تھی اور جن کی آنکھوں کا تو تارا ہوا کرتی تھی. بیٹا شاید تجھے پتا نہیں تھا تیرے ابو کو تو انگلش بھی اچھی خاصی آتی ہے اور وہ تو میڈیا کو بھی ایک زیرک سپوکس مین کی طرح فیس کرتے ہیں، جی جی بیٹا انہوں نے اپنے قائد کا شکریہ بھی ادا کیا اور وہ اتنی سردی میں تجھے ترے اخروی بیڈ روم میں لٹانا بھی نہیں چاہتے، جی تیرے امی ابو ابھی عمرہ کی سعادت حاصل کر کے ھیں ہیں اور ماشاللہ وہ روحانی زینت ان کی شائستگی میں واضح تھی، بیٹا آج لوگوں یہ بھی پتا چل چکا ہے کہ تیرا بڑا بھائی پری میڈیکل کا سٹوڈنٹ ہے اور اس نے پانچ سو میں سے 488 نمبر بھی لئے ہیں. اور آپ یقین جانو وہ سب لوگ بڑے پر اعتماد، ہشاش بشاش ہیں اور میں آپ کو ایک خوش خبری تو دینا ہی بھول گیا، اب تیرے ساتھ ہونے والے ظلم کا بدلہ بھی سانحہ ماڈل ٹاؤن کے مظلوموں کے ساتھ ہی لیا جاے گا.

زینب بیٹا! آپ کتنی بھولی بھالی اور معصوم ہو آپ اس جاہل، بے حس اور بدکردار معاشرے سے انصاف مانگ رہی ہو جہاں تیرے خون کے رشتے داروں سے لے کر، سیاستدان ، سول سوسائٹی، ان پڑھ اور پڑھے لکھے، وکیلوں سے لے کر ججوں تک، ایک سپاہی سے لے کر ائی جی تک، ایک چھابڑھی والے سے لے کر بزنس مین تک، کلرک سے لے کر ہوم سیکرٹری تک، ایک رپورٹر سے لے کر اینکر تک، نام نہاد پادریوں سے لے کر قادریوں تک اور کونسلر سے لے کر کر وزیر اعظم تک سب کے سب کرپٹ، لالچی، جھوٹے، بے حیا، بے غیرت، بد کردار ہیں. ان سے کبھی انصاف کی توقع نہ رکھنا، یہ تو ایسے واقعات کا انتظار کرتے ہیں تاکہ سیاست دان سیاست کر سکے، ہلڑ باز ‘ ہلڑ بازی کر سکے، رشوت خور’ رشوت خوری کر سکے، وکیل کو کلائنٹ مل جاۓ ججوں کا بھی کاروبار چلے، میڈیا خوب سچی جھوٹی ہیڈ لائنز چلائے گا، رپورٹرز خوب اپنی اپنی پسند کے رپورٹنگ کریں گے اور اینکر پر سنز خوب اپنے اپنے بخل بھرے اور جانبدارانہ تبصرے ٹھونسیں گے اور لوگوں کو خوب بیوقوف بنائیں گے. بیٹا یہ طوفان بدتمیزی اور جھوٹ کا بزنس اسی طرح چلتا رہے گا اور کچھ ہی دنوں بعد زینب بیٹا آپ تڑپتے ترستے ہوے’ درندوں کی اس بستی سے، اس انصاف نگر میں بسیرا کر لو گی جہاں تیرے جیسی کئی اور بیٹیاں، مشال خان، قندیل بلوچ، شاہزیب بلوچ، مغیز اور منیب بٹ وغیرہ تیرا انتظار کر رہے ہیں. وہ تجھے ویلکم کرنے کے لئے تیار بٹھے ہیں.

جی پیاری گڑھیا! تو میں آپ کو بتا رہا تھا کہ ہم تیرے ساتھ ہونے والے درد ناک اور انسانیت سوز سلوک پر بلکل بھی شرمندہ نہی ہیں بلکہ ہمارہ بازار درندگی اب اور بھی خوب اب و تاب سے چمکے گا، ہم خوب ہلڑ بازی کریں گے، آے روز ہم آپ کو نہایت بے حیائی کے ساتھ قوم کے بیٹی اور سر شرم سے جھک گیا کے جھوٹے نذرانے پیش کرتے رہیں گے، ہم ہر روز مجرموں کو شر عام چوک میں پھانسی پر لٹکانے کے جھوٹے وعدوں سے تیرے زخموں پر نمک پاشی کرتے رہیں گے. بیٹا آپ کو اچھی طرح معلوم ہونا چاہیے اس پیارے وطن میں تیرے جیسی ہزاروں بیٹیاں، روز درندوں کی درندگی کا نشانہ بنتی ہیں، یہاں تیرے جیسی ہزاروں لاکھوں بیٹیاں صرف اس بے نیام درندگی کے خوف سے اسکول نہی جا پاتیں، یہاں ہر روز بازار حسن کی منڈیاں سجتی ہیں اور درندگی کے سوداگر ہر روز بے غیرتی کی چھن چھن میں، تیرے جسی کئی بیٹیوں کے سرے عام سودے کرتے ہیں، بیٹا یہاں ہر روز غیرت کے گھنگرو ٹوٹتے ہیں اور یہاں ہر روز عزت کی پاییلیں کھنکتی ہیں، جی زینب بیٹا آپ خوش قسمت ہو اس قوم نے کوڑے کے ڈھیر سے تیرا معصوم لاشہ تو برآمد کر لیا، نا جانے تیرے جیسی کتنی ہزاروں نامعلوم کلیاں ان کوڑے کرکٹ کے ڈھیروں تلے اور گندے پانی کے جوہڑوں میں پڑی اپنے انصاف بابا کے انصاف کا انتظار کر رہی ہیں. جی معصوم کلی تجھے معلوم تو ہے یہاں قانون نام کی کوی چیز نہی ہے، یہاں معصوم لوگوں کو درندگی کا نشانہ بنانے والے اسرائیل، امریکا یا انڈیا سے نہی آتے بلکے یہی پولیس، سیاستدان، خانقاہیں اور یہ بے غیرتی کے ڈیرے، جن کو ہم اپنا نام نہاد نجات دھندہ اور رہبر مانتے ہیں یہی ان درندوں کے پروٹیکٹر ہیں، یہی جرائم کی فیکٹریاں ہیں، جب محافظ ہی چوروں کو تحفظ دیں گے، جب یہاں سزا اور جزا کا کوی سسٹم ہی نہی تو بیٹا مجھے معاف کر دینا اور مجھے کہنے دینا پلیز… زینب! ہم واقعی بلکل بھی شرمندہ نہیں ہیں…

غلام قادر راز
gqadarrazz@gmail.com

اپنا تبصرہ بھیجیں