شیشے کے اس پار

…..شیشے کے اس پار —

یہ کسی ماں کیلیے قیامت خیز منظر ہوتا ہے جب اس کا لخت جگر شیشے کے اس پار ہو، وہ اس سے کئی سالوں بعد ملے چہرہ تو دیکھ سکے آواز نہ سن سکے، شکل تو دیکھ سکے مگر اپنے جگر کو چھو نہ سکے اس کا بوسہ نہ لے سکے، اس کے چہرے پر اپنا شفیق ہاتھ نہ پھیر سکے، اسکا حال نہ پوچھ سکے اپنے دل کی آگ کو بجھا نہ سکے، یہ صرف ایک ماں ہی بتا سکتی ہے جس پر یہ قیامت ٹوٹی ہو، جو اس قرب ناک صورت حال سے گزری ہو، یہ کتنے درد ناک لمحات ہوتے ہیں یہ ایک ماں ہی محسوس کر سکتی ہے- اور اس بیٹے پے کیا گزری ہو گی جو اپنی جنت کے پاس ہوتے ہوے بھی اسے چھو تک نہ سکا اس کے شفقت بھری آواز نہ سکا، جی ہاں میں ایک بیٹا ہونے کے ناتے محسوس کر سکتا ہوں اس قیامت کو جو کچھ دن پہلے ہم سب کے دلوں پر تو گزری لکین دلوں میں نفرت کے تالے نہ کھول سکی-

پیارے، بھولے اور جوشیلے قارئین، ذرا کچھ لمحوں کے لئے روک جائیے، اپنے دل اور دماغ کو ایزی کیجیے اور ذرا چند لمحوں کیلئے اس بے بسی کی لاش بن کر سوچیے، ذرا نفرت کے چادر کو اپنے اوپر سے ہٹا کر سوچیے، ذرا کچھ دیر کے لئے تنگ نظری کے لاکر سے باھر نکل کر سوچیے، صرف اور صرف انسان بن کر سوچیے، ایک کامن انسان بن کر جو انڈیا میں ہو یا پاکستان میں، امریکا میں ہو یا افریقہ میں، اس کی پہچان انسان اور انسانیت ہی ہے-

اس کی ماں کا دل عام ماؤں کی نسبت زیادہ نازک ہے، وہ مجھ سے بات کر رہی تھیں تو میں ان کے دل سے بہتے آنسووں اور درد کی آبشار کو محسوس کر سکتا تھا- وہ غمزدہ آواز میں کہ رہی تھیں بیٹا اگر اس کی جگہ میں ہوتی تو اب تک صدمے سے مر چکی ہوتی، یہ شیشہ مرے سینے کو چھلنی کر چکا ہوتا، وہ درد بھرے جذبات سے بولی کاش کوی اڑن طشتری مجھے اس جہاں کے اس پار لے جاۓ جہاں ماں اور بیٹے کے درمیان شیشے کی دیواریں بنتی ہیں، جہاں نفرت کی کتابیں لکھی جاتی ہیں، جہاں دلوں کو توڑنے کی پلاننگ کے جاتی ہے، جہاں لوگوں کو نفرتوں کے زھر پلاۓ جاتے ہیں، جہاں لوگ اپنے سکھ کے لئے دوسروں کی زندگی عذاب بنا دیتے ہیں ، جہاں لوگ اپنی خواہشات کی تکمیل کے لئے دوسروں کا خوں نچوڑ رہے ہیں- میں شائد وہاں پے کچھ اور تو نہ کہ سکوں گی لیکن اتنا ضرور کروں گی میں ایک ماں ہونے کے ناتے اپنا دوپٹہ ان کے پاؤں پر پھنک دوں گی اور کہوں گی، اے انسانیت کے سوداگرو تم انسانیت کی تذلیل کیوں کر رہے ہو، کیوں انسانیت کا سکون برباد کر رہے، تم کیا سمجھتے ہو انسانوں کا خوں پی کر تم ہزاروں سال زندہ رہو گے، کیا تمہیں مرنا نہی ہے، کیا تمہں موت یاد نہی ہے، وہ کون سا ایجنڈا ہے جسکی تکمیل تم نفرت، زھر اور خوں سے کر رہے ہو، یہ نفرتوں کی آگ ایک نا ایک دن آپ تک بھی پہنچ جاۓ گی اور پھر تمہاری چیخ و پکار کوی نہی سن سکے گا، تب تک بہت دیر ہو چوکی ہو گی کیونکہ میں نے کئی طاقتور قافلوں کو اپنوں کے ہاتھوں لٹتے دیکھا ہے، میں نے کئی جابروں کو اپنی اولاد کے ہاتھوں ذلیل و رسوا ہوتے دیکھا ہے، میں نے کئی ظالموں کو انکے اپنے ہاتھوں کی بنائی هوئ نفرت کی کے دیواروں کے نیچے مرتے دیکھا ہے- جی ہاں میں نے نفرت کے بیوپاریوں کو ظلمت کی آگ میں جلتے دیکھا ہے- ہاں ہاں میں نے غرور اور تکبر کے بڑے پہاڑوں کو ریت کی دیوار بنتے دیکھا ہے اور میں نے وقت فرعونوں کو ذلیل و خوار ہوتے دیکھا ہے- لیکن سن لو انسانیت کے سوداگرو سن لو انسان کی زندگی میں ایک ایسی اسٹیج بھی آتی ہے جب انسان کی عقل پر پردہ ڈل جاتا ہے اور اسے ظلم’ ظلم نہی لگتا، اسے بدکرداری’ بدکرداری نہی لگتی، وہ نہتے لوگوں کا خون بھا کر اور انہیں بے دردی سے رلا کر اطمینان محسوس کرتے ہیں- تو بس پھر سمجھ لو کہ آپ کی کشتی بہرے ظلمات کے کنارے پر پہنچ چکی، لیکن تب تک پلوں کے اوپر سے بہت سا پانی بہ چکا ہو گا اور واپسی کا کوی راستہ نہ ہو گا اور آپ کی چیخیں سسکتی انسانیت کو باد نوبہار کی طرح معطر اور ترو تازہ کر جائیں گی-

یہ کانپتی اور سسکتی هوئ ماں کچھ اپنوں سے بھی ہاتھ جوڑ کر کہنا چاہتی ہے- اس کے اپنے بہن بھاءیوں سے بھی کچھ گلے شکوے ہیں، تم لوگ چند سکوں کی خاطر اپنا ضمیر بیچ دیتے ہو اپنی پھولوں جیسی اولاد بیچ دیتے ہو، اپنی عزت کا سودا کر لیتے ہو صرف چند روپوں کے عوض، یہ پتا ہوتے ہوے بھی کہ یہ پیسا کدھر سے ارہا ہے، ان لوگوں کا کیا کالا دھن ہے- یہ سب پتا ہوتے ہوے بھی آپ آنکھیں بند رکھتے ہو تو پھر یاد رکھو ایک دن آنے والا ہے اور بہت ہی قریب ہے وہ دن جب آپ کا کلبھوشن جادیو شیشے کے اس پار ہو گا اور آپ شیشے کے اس پار، ہاں ہاں تب آپ کے ضمیر کی مٹی’ ریت بن کر آپ کے پاؤں تلے سے سرک رہی ہو گی، آپ کا شرم و حیا اور عزت کا تاج محل زمیں بوس ہو رہا ہو گا اور کوی پیچھے سے آپ کی بے ضمیری کی لاش کو سہارا دے گا اور کہے گا اوکے مسز پتہاونتی سدہیر جادیو, چیتنا جادیو جی

Forty minutes are over….

غلام قادر راز gqadarrazz@gmail.com

اپنا تبصرہ بھیجیں