“ایک ادھورا خواب”

“ایک ادھورا خواب”

وہ آج خوش بھی تھا حیران بھی اور پریشان بھی ، میاں نواز شریف اس کے خواب میں آے، وہ پریشان تھے اور ابھی تک” مجھے کیوں نکالا “کی قید سے اپنے آپ کو آزاد نہی کرا سکے ، ابھی تک مجھے کیوں نکالا کا جن دن رات ان کی آنکھوں کے سامنے رہتا ہے- وہ پانامہ سے اقامہ کی ڈراؤنی داستان سے اپنا گریبان ابھی تک آزاد نہی کرا سکے- میں نے دیکھا، آج وہ کافی سنجیدہ بھی تھے اور رنجیدہ بھی- آنے والا الیکشن ان کے لئے بہت برا چیلنج بن چکا ہے- وہ اتنے بچے بھی نہیں ہیں انھیں سب چیزوں کی سمجھ ہے – وہ بہت کچھ بولنا چاہتے تھے لیکن نا بول سکے لیکن خاموشی کی بھی تو ایک زبان ہوتی ہے اور ہر کوئی اس زبان کو نہی سمجھ سکتا- ان کے اندر ایک لاوا ابل رہا ہے وہ روزانہ اس لاوے پر پانی ڈالتے ہیں لیکن مجھے کیوں نکالا کا شیطان اس پر اور تیل ڈالتا ہے جس سے اس کی شدت میں اور اضافہ ہو جاتا ہے اور وہ مجھے کیوں نکالا کی دھمال ڈالنا شرع کر دیتے ہیں.

یہ خواب آگے بڑھتا ہے اور میاں صاحب خاموش ہو جاتے ہیں اور میں میاں صاحب سے مخاطب ہوتا ہوں، میاں صاحب! آپ بڑے پن کا مظاہرہ کریں، میں آپ کی پریشانی کو سمجھ سکتا ہوں لیکن آپ اپنے دل کو کشادہ کریں اور مجھے کیوں نکالا کے تابوت کو اپنے اندر کے قبرستان میں دفن کر دیں جہاں آپ نے پہلے بھی مجھے کیوں نکالا جیسے کئی شہیدوں کو دفن کر رکھا ہے- آپ سے بہتر سیاست کی شطرنج کوئی نہی سمجھتا- کامیاب سیاستدان وہی ہوتا ہے جو کبھی فولاد کی طرح سخت ہوتا ہے تو کبھی موم کے طرح نرم، اسے کبھی تیز رفتار خرگوش بننا پڑتا ہے اور کبھی کچھوے کی چال چلنا پڑتا ہے اور کبھی چیتے کی طرح ٹیلوں ٹبوں کے اوپر سے منزل کے طرف لپکنا پڑتا ہے- سیاست ممکنات کا کھیل ہے اور جو کھلاڑی اپنے کارڈ وقت اور حالات کو سامنے رکھ کر کھیلتا ہے جیت اسی کی ہوتی ہے اور کامیابی اسی کے سر کا تاج بنتی ہے-

میں نہ چاہتے ہوے بھی نا رک سکا اور میں نے میاں صاحب کو یہ بھی کہ ڈالا- میاں صاحب آپ پاکستان کی وہ طلسماتی اور خوش قسمت شخصیت ہو جس کو پاکستانی عوام نے تین بار وزیر اعظم کی کرسی پر بٹھایا- آپ وہ مقدر کے سکندر ہو جس کے متوالے برے سے برے حالات میں بھی ایک مضبوط چٹان کی طرح آپ کے ساتھ کھڑے رہے اور آج بھی کھڑے ہیں- آپ تھوڑی سی ہمت کیجیے ابھی بہت وقت باقی پڑا ہے یہ چند کام کر دیجیے جاتے جاتے، میں آپ کو گارنٹی دیتا ہوں آنے والا الیکشن معرکہ بھی آپ ہی سر کرو گے، یہ کوئی مشکل یا ناممکن کام نہی جو آپ نا کر سکو، اس کے لئے کسی قانون سازی سرمایہ یا آپوزیشن کی ضرورت نہی، بس آپ ہمت کیجیے آگے بڑیے، اور آج ہی پرائم منسٹر بمعہ کابینہ بلایے اور ایک دبنگ اعلان کر دیجیے ! آج کے بعد اس ملک میں پولیس آزاد ہے، آج کے بعد کسی SHO کو کسی MPA,MNA کا فون نہی جاۓ گا ، پولیس تمام آپریشنز صرف اور صرف قانون اور میرٹ کو سامنے رکھ کر کرے گی، آپ کو گارنٹی دیتا ہوں ملک میں سب سے بڑا امن و امان کا مسلہ چند ہی دنوں میں ختم ہو جاۓ گا- نمبر.2 تعلیم، خدارا یہ بہت بڑا کام ہے اگر آپ کر دو تو، پلیز وطن عزیز کے بچوں کو علم کے روشنی سے نواز دو، ملک میں آج ہی تعلیمی ایمرجنسی نافذ کر دو اور اعلان کر دو ملک میں آج سے میٹرک تک تعلیم فری ہے، پاکستان میں دفاع کے بعد سب سے زیادہ بجٹ تعلیم کے لئے رکھا جاۓ گا- غریب والدین کو بچوں کے لئے تعلیمی وظیفہ دے دو تاکہ تعلیم کے آگے غربت آڑہے نہ آے- اگر آپ اس ملک کے عوام کو تعلیم اور شعور دے دو گے تو قوم عمر بھر آپ کا یہ احسان نہی بھولے گی- میاں صاحب چھوڑ دو باقی سب کاموں کو، جب وطن عزیز کی نئی نسل علم کی شمع سے مالا مال ہو گی تو وہ خود ہی اپنے لئے روزگار تلاش کر لیں گے، وہ خود ہی اپنا علاج کرا لیں گے، وہ خود ہی پل اور سڑکیں بنا لیں گے، وہ خود ہی اپنے کھیتوں سے بہترین فصل بھی لیں گے اور منڈیوں تک رسائی بھی، وہ کبھی بھی اپنے ساتھ نا انصافی نہی ہونے دیں گے- یار پلیز اس قوم کو صحت،علاج ،روزگار ،تعلیم،مزہب ،ووٹ، جمہوریت، ٹیکس، حقوق، اخلاقیات، ادب، Manners، سیاست اور قیادت کا شعور تو آنے دو، میاں صاحب یقین جانو جب ایک پڑھی لکھی well educated and systematic قوم آپ کے پیچھے کھڑی ہو گی تو آپ کو کبھی بھی یہ نہی کہنا پڑے گا ” مجھے کیوں نکالا”- نمبر.3 آج ہی اس ملک کی عدالتوں کو آزادی دے دو، ان کو بااختیار بنا دو، رشوت اور کرپشن کرنے والوں کے لئے سخت ترین قانون لاگو کر دو- ایک لازوال مثال قائم کر دو، آج ہی اپنی حکومت کو احتساب کے لئے پیش کر دو، قانون کے آگے سرنڈر کر دو آپ انمول ہو جاؤ گے اور آپ کے پاکستان میں کوئی بھی رشوت ، کرپشن یا قانون کو ہاتھ میں لینے کی جرات نہی کرے گا-
میاں صاحب! آپ نے اس قوم کو بہت سے موٹرویز، ہائی ویز، میٹروز, پاور پلانٹس، سی پیک، انڈسٹری اور ماڈرن انفراسٹرکچر دے دیے، قوم آپ کے ان کاموں کو ہمیشہ یاد رکھے گی- آپ بس یہ دو تین کام کر دیجیے، اس میں آپ کا فائدہ ہی فائدہ ہے- یقین مانیے آپ کو انصاف کے لئے کوئی تحریک نھی چلانی پڑے گی اور نا ہی ” مجے کیوں نکالا ” کی آذانیں دینا پڑھیں گی-
اس کی آنکھ کھل گئی اور اس کا یہ عظیم خواب ادھورا رہ گیا، وہ میاں صاحب کا جواب نا سن سکا- وہ اب جاگ چکا تھا، خوابوں کی دنیا سے حقیقت تک کا یہ سفر اس وقت بلکل ختم ہو گیا جب وہ اپنی پرانی ٹوٹی سائیکل اور پھٹے پرانے کپڑوں کے ساتھ اس جہاں میں نکل پڑا، جہاں وہ روزانہ نہ جانے کتنی دفع زندگی اور موت کے رقص دیکھتا اور نہ جانے وہ کتنے انصاف کے قتل دیکھتا ہے، نہ جانے وہ کتنی حوا کی بیٹیوں کو اپنے سامنے لٹتے دیکھتا، نہ جانے وہ کتنے معصوموں کے بے رحمانہ قتل کے جنازے پڑتا ہے صرف اس ایک روٹی کی خاطر جو ہر آنے والے دن کے ساتھ اس سے دور بھاگ رہی ہے-

غلام قادر راز . فیس بک اکاؤنٹ
gqadarrazz@gmail.com

اپنا تبصرہ بھیجیں