سعودی عرب کا نیا منصوبہ نیوم ،آخراس میں کیا ہوگا ؟

مردوں کے ساتھ مل کر کام کرنے والی خواتین، روبوٹ اور بغیر ڈرائیور کے گاڑیوں. سائنسی تحقیق. صاف توانائی. یہ سب کچھ ہوگا نیوم کا حصہ -یہ سعودی عرب کا ایک نیا شہر ہوگا جو بنیادی طور پر ایک کاروباری مرکز کے طور پر اپنی پہچان بنائے گا – 500 بلین کے اس منصوبے کو منگل کو سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی طرف سے پیش کیا گیا تھا. “دنیا کے سب سے زیادہ حوصلہ مند منصوبے کے طور پر ابھرتے ہوئے نیوم سعودی عرب، اردن اور مصر سمیت تین مختلف ملکوں کا احاطہ کرے گا
انتہائی اثر و رسوخ رکھنے والے پرنس نے ریاض میں ایک شاندار اجلاس میں منصوبہ کا اعلان کیا. سعودی عرب کے خود مختار پبلک انوسٹمنٹ فنڈ کے ذریعہ منظم ہونے والے کانفرنس میں 88 ممالک سے کاروباری ، کارپوریٹ ایگزیکٹوز اور سرکاری حکام کے 3500 سے زائد افراد میں شامل تھے.
غیر ملکی سرمایہ کاروں سے گفتگو کرتے ہوئے محمد بن سلمان نے سعودی عرب کو اسلام کی اصل اعتدال پسندی والی شکل عملی طور پر واپس لانے کا وعدہ کیا. “ہم ایک عام زندگی رہنا چاہتے ہیں. ایک زندگی جس میں ہمارے مذہب کی بتائی ہوئی رواداری، ہماری رحم کی روایات پر مبنی ہو ” ولی عہد نے بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو بتایا.
“سعودی عرب کی 70 فیصد آبادی 30 سے زائد ہے، اور ایماندارانہ طور پر ہم تباہ کن خیالات سے نمٹنے والے ہماری زندگیوں کے اگلے 30 سال تک خرچ نہیں کریں گے. ہم آج ان کو تباہ کر دیں گے. ” اس لیے اپ نے دیکھا کہ اس ماہ میں خواتین کو گاڑی نا چلانے دینے والی نا پسندیدہ قانون کو بھی تبدیل کر دیا گیا ہے ”
محمد بن سلمان نے اس منصوبے کی تفصیل بتاتے ہوۓ مزید کہا کہ نیوم منصوبہ سعودی عرب کے شمال مغربی علاقے میں چھبیس ہزار پانچ سو مربع کلومیٹر کے علاقے پر محیط ہو گا – اس منصوبہ کو مصر اور اردن تک توسیع دینے کی پیشکش بھی کی گئی ہے لیکن ان دونوں ممالک کی طرف سے ابھی تک کوئی جواب نہیں آیا-
اربوں ڈالرز کے اس منصوبے میں ویسے تو 9 مختلف شعبوں پر کام کیا جائے گا لیکن سب سے زیادہ اہم شعبہ جات میں خوراک ،ٹیکنالوجی
توانائی اور پانی شامل ہے- یہ منصوبہ بھی VISON 2030 کا حصہ ہے جس کے تحت سعودی عرب کی معیشت کا دارو مدار تیل پر کم کرنا ہے -اور بحر الاحمر منصوبہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جس کا علان بھی اسی سال اگست کے مہینے میں کیا گیا تھا –
کہا یہ جا رہا ہے کہ نیوم منصوبہ میں نا صرف مقامی افراد بلکہ پوری دنیا سے لوگ اس میں سرمایہ کاری کریں گے -اسی لیے ایک اندازے کے مطابق 2030 تک اس منصوبے کا سعودی معیشت میں 100 ارب ڈالر کا حصہ ہو جائے گا –
یہ منصوبہ بحر احمر کے ساحل اور عقابہ خلیج پر واقع ہوگا اسی لیے یہ ایشیا ،افریقہ اور یورپ کو ملائے گا –

اپنا تبصرہ بھیجیں