دل کے دورے سے پہلے ظاہر ہونے والی 6 نشانیاں – نظر انداز مت کریں

لاہور (جمبو ٹپس نیوز ڈیسک) کہا جاتا ہے کہ پرہیز علاج سے بہتر ہے اور پرہیز کی تعریف میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ بیماری کو مزید بڑھنے سے روکنے کے لیے احتیاطی تدابیر کی جائیں اور خاص طور پر جب بیماری دل کی ہو تو پھر تو بہت زیادہ احتیاط کرنی چاہیے کیونکہ دل انسانی جسم کا سب سے اہم اور مسلسل کام کرنے والا عضو ہے۔دل کے بیماریوں میں سب سے خطرناک قسم ہارٹ اٹیک کی ہے جب انسان پر اسکا کا حملہ ہوتا ہے تو انسان کے زندہ بچنے کے بہت کم چانس ہوتے ہیں۔لیکن کیا آپ کو معلوم ہے کہ ہمارا جسم ہمیں ہارٹ اٹیک ہونے سے 4 ہفتے پہلے سے سگنل دینا شروع کر دیتا ہے۔ اور آج ہم اسی موضوع کو بیان کریں گے کے ہاٹ اٹیک کی علامات کیا ہیں اور ان سے بچنے کی کیا تدابیر اختیار کرنی چاہیے۔

دل کے دورے کی پہلی اور سب سے اہم نشانی بےجا تھکاوٹ ہے۔ہر وقت جسم کا درد سے چکنا چور ہو نا اور پٹھوں میں درد ہوتے رہنا دل کے دورے کی علامات میں سے ہے کے مطابق 70فیصد مرد و خواتین جو دل کے دورے کا شکار ہوتے ہیں ان میں تھکن کی علامات پائی جاتی ہیں۔لیکن اگر یہ تھکن کسی ورزش کی وجہ سے یا کسی کام کی وجہ سے ہے پریشان ہونے کی کوئی بات نہیں۔صرف اس صورت میں یہ بات خطرناک ہے کہ جب آپ دن بھر کوئی سخت کام بھی نہ کریں اور پھر شام کو تھکن کا احساس ہو۔

دل کے دورے کی دوسری اہم علامت سینے میں شدید درد ہونا ہے عام طور پر جن لوگوں کو دل کا دورہ پڑتا ہے ان میں یہ علامت اتنی عام نہیں پائی جاتی لیکن پھر بھی درد ہو تو اسے نظر انداز نہیں کرنا چاہیے دل کے دورے کے 30%مریضوں میں یہ علامت پائی جاتی ہے۔

دل کے دورے کی تیسری اہم علامت بے خوابی ہے۔تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے ہارٹ اٹیک کے مریضوں کو دل کا دورہ پڑنے سے دو مہینہ پہلے بے خوابی کی شکایت ہوجاتی ہے اور اکثر اوقات ساری ساری رات نیند نہیں آتی۔تاہم یہ علامت عورتوں میں مردوں کی نسبت زیادہ پائی جاتی ہے۔

چوتھی بڑی علامت پیٹ میں درد ہونا ہے۔دل کے دورے میں مسلسل پیٹ درد نہیں ہوتا بلکہ کبھی پیٹ میں درد شروع ہو جاتا ہے بھی ختم ہو جاتا ہے اس کے ساتھ ساتھ متلی اور ہیضہ وغیرہ کی بھی شکایت رہتی ہے۔ جسم میں تھکاوٹ اور ہمیشہ سکون کرنے کو دل چاہتے رہنا۔ویسے اکثر ماہرین نے یہ علامت فالج کے لیے بھی بتائی ہے لیکن دیکھا گیا ہے کہ دل کے مریضوں میں بھی یہ علامت بکثرت پائی جاتی ہے۔

بالوں کا گرنا بھی دل کے دورے کی ابتدائی علامات میں سے ہے تقریباً 40 فیصد مریضوں میں اس بات کا مشاہدہ کیا گیا ہے کہ انہیں ہارٹ اٹیک ہونے سے 6 مہینے پہلے ان کے بال تیزی سے گرنا شروع ہو جاتے ہیں۔ تاہم یہ علامت عورتوں کی نسبت مردوں میں زیادہ پائی جاتی ہے۔

آخری لیکن سب سے اہم علامت سانس کا رکنا ھے دورہ کے 80 فیصد مریضوں میں علامت ضرور پائی جاتی ہے لیکن عام طور پر اسے نظر انداز کیا جاتا ہے اور اس کے متعلق ڈاکٹر سے رجوع نہیں کیا جاتا۔آپ غور کریں تو دل کے مریضوں کو ہارٹ اٹیک کے وقت جو دو بڑی پریشانی ہوتی ہیں ان میں سے ایک بات کا نہ کرپانا اور دوسرا سانس نہ لے پانا۔

محترم قارئین مندرجہ بالا علامات بتانے کا مقصد آپ کو خوف زدہ یا پریشان کرنا نہیں ہے بلکہ اس کا مقصد ہارٹ اٹیک جیسی مہلک بیماری سے آگاہی اور اس کا سد باب کرنے کا شور پیدا کرنا ہے اگر آپ میں ان علامات میں سے کوئی علامت موجود ہے تو پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ۔آپ ڈاکٹر سے رجوع فرمائیں اور کبھی بھی کسی علامت کو نظر انداز نہ کریں۔ اللہ کریم تمام مریضوں کو صحت عطا فرمائیں۔ آمین۔

اپنا تبصرہ بھیجیں