انسان کے لیے نیا لباس تیار -جسے پہن کر آدمی نظر نہیں آئے گا

وہ دن گئے جب جنگیں انفرادی طاقت سے جیتی جاتی تھیں۔اب تو جنگ وہ جیتا ہے جو ٹیکنالوجی میں زیادہ عبور حاصل رکھتا ہے۔طاقت کے حصول کے لیے آئے روز نت نئے تجربات ہوتے رہتے ہیں جن کی وجہ سے ٹیکنالوجی اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ حال ہی میں روسی سائنسدانوں نے یہ دعویٰ کیا ہے جو نے ایک ایسا لباس تیار کر لیا ہے جس کو پہن کر روسی فوجی سب کی نظروں سے اوجھل ہوجائے گا اور کسی کو بھی نظر نہیں آئے گا۔سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ان کے فوجی نہ صرف انسانی آنکھ سے چھپ سکیں گے بلکہ ریڈار اور دیگر ریڈیو آلات پر بھی نظر نہیں آئیں گے۔
اس عمل کے لیے روسی سائنسدانوں نے نینو پروسیسنگ نامی ٹیکنالوجی استعمال کی ہے اس ٹیکنالوجی میں ایک مخصوص قسم کا لباس تیار کیا گیا ہے جس میں چھوٹے چھوٹے سیل  لگا دیئے گئے ہیں – یہ سیل یہ صلاحیت رکھتے ہیں کہ آس پاس کے ماحول کا رنگ محسوس کرکے لباس کی اوپری پرت پر بھی وہی رنگ چڑھا دیں گے جس سے لباس کے اندر موجود فوجی نظروں سے اوجھل ہوجائے گا۔ واضح رہے کہ اس سے پہلے اس ٹیکنالوجی کا استعمال امریکہ بھی کرچکا ہے امریکی فوج اس ٹیکنالوجی کی مدد سے اپنے ٹینکوں کو میدان جنگ میں دشمن کی آنکھ سے چھپاتی تھی اور اگر اس ٹیکنالوجی کی مدد سے فوجیوں کو چھپانے کے لئے لباس تیارکرلیا ہے پتا نہیں ٹیکنالوجی کی یہ دور انسانیت کے لیے کیا کیا نئے کرشمے لے کے آئے لیکن یہ بھی سچ ہے کہ انسان نے جتنا فائدہ اس ٹیکنالوجی سے اٹھایا ہے اس سے کہیں زیادہ نقصان بھی اسی ٹیکنالوجی کی وجہ سے اٹھایا ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں