Soraj garhen main janwaron ka pas na jaien

لاہور (انٹر نیٹ) سورج گرہن اور چاند گرہن کے دوران جانوروں اور انسانوں میں ہونے والی تبدیلیوں کے متعلق کئی قصے کہانیاں موجود ہیں یہ کہا جاتا ہے کہ خواتین سورج گرہن میں باہر نہ نکلیں کیوں کہ اس سے ان پر اور ان کے پیدا ہونے والے بچے کی صحت پر بہت برا اثر پڑتا ہے لیکن اس بات کی کوئی سائنسی تصدیق آج تک پیش نہیں کی جا سکی کو محض جھوٹا اور توہم پرستی بھی مانا جاتا ہے لیکن اب سائنس دانوں نے اس حوالے سے ایک حیرت انگیز بات کا کھوج لگایا ہے ایک غیر ملکی رپورٹ کے مطابق یونیورسٹی آف کولوراڈو کے ایک سائنسدان نے کہا ہے سورج گرہن جانوروں پر ایک خواص قسم کے گہرے اثرات مرتب کرتا ہے قرض کے نتیجے میں ان کے رویے میں غیر معمولی تبدیلیاں رونما ہوتی ہے

ڈاکٹر ڈنکن ایک سائنسدان ہیں اور وہ سورج گرہن پر اپنی تحقیق کرتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ سورج گرہن کے دوران جانوروں کا رویہ حیرت انگیز طور پر تبدیل ہوتا ہے ۔ ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ جب میں بولیویا میں تھا تو وہاں میں نے سورج گرہن کے دوران ایک حیرت انگیز منظر دیکھا۔ میں نے دیکھا کہ جیسے ہی سورج گرہن شروع ہوا بہت سارے ہرنوں نے ایک جگہ اکٹھا ہونا شروع کردیا اور جب تک سورج گرہن رہا اُسی جگہ ساکت کھڑے رہے سورج گرہن ختم ہوا تو وہاں سے چلے گئے۔ اسی طرح ایک اور واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ میں ایک دفعہ ایک جزیرے پر تھا وہاں سورج گرہن لگا اور میں نے دیکھا کہ بڑی بڑی مچھلیاں سطح سمندر پر آ گئی اور جب تک سورج گرہن رہا وہٰ سمندر پر ہی رہیں اور سورج گرہن کے ختم ہونے کے بعد غایب ہوگئیں ۔ڈاکٹر ڈنکن کے علاوہ بھی اور کئی سائنسدان ہیں جو اس نظریے سے متفق ہیں سورج گرہن کے دوران جانوروں کے جس میں غیر معمولی تبدیلیاں رونما ہوتی ہے سورج گرہن ختم ہونے تک رہتی ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں